Events Details
پیف ہیڈ آفس لاہور میں 74واں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس۔
پیف ہیڈ آفس لاہور میں 74واں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس۔
پارٹنر سکولوں کی فنڈنگ کے حوالے سے بڑی پیش رفت ۔
بقایا جات سمیت مانیٹرنگ کی بنیاد پر 100فیصد فنڈز جاری کر نے کی منظوری۔
چیئرمین پیف اورایم ڈی پیف کی درخواست پر بورڈ نے سکولوں کی فیس 50روپے پرائمری لیول اور 100روپے ایلیمنٹری فی بچہ فیس بڑھانے کے لیے کیس فنانس کمیٹی کو بھیج دیا۔
پیف پارٹنرز کے مسائل کے حل کے لیے ریجنل دفاتر کے دائرہ کار کو بڑھانے کی منظوری دے دی گئی۔
پیف ملازمین کی ویلفئیر اورریگولرائز کرنے کے حوالے سے بھی ورکنگ پیپر بنانے کی ہدایات۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ہیڈ آفس لاہور میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 74واں اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز سردار آفتاب اکبر خان نے کی۔ ایم ڈی پیف اسد نعیم نے تمام بورڈ ممبران کو پیف آمد پر خوش آمدید کہا اور تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کرتے ہوئے باقاعدہ اجلاس کا آغاز کیا۔ ایم ڈی پیف اسد نعیم نے بورڈ ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹنر سکولز بہت کم پیسوں میں غریب اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں تاہم کچھ مسائل اور فنانس ڈیپارٹمنٹ (گورنمنٹ آف پنجاب) کی طرف سے فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے تین ماہ کی فنڈنگ جاری نہیں کی جاسکی جبکہ پارٹنر سکولوں کے بقایا جات بھی ادا کیے جانے ہیں۔ایم ڈی پیف نے بورڈ ممبران سے درخواست کی کہ بورڈممبر ان فنڈنگ کے معاملات کو سمجھتے ہوئے بقایا جات ادا کرنے کی اجازت دے جبکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ پیف کو جلد از جلد پانچ ارب کے فنڈز جاری کرے تاکہ سکولوں کی فنڈنگ جاری کی جا سکے۔
اس موقع پر چیئرمین پیف سردار آفتاب اکبر خان نے کہا کہ 6سال سے پارٹنر سکولوں کی فیس نہیں بڑھی جبکہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا انہو ں نے کہا کہ فیس کم ہونے کی وجہ سے پیف سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں بھی نہیں بڑھائی جا رہیں جب کہ پیف سکولوں کے اساتذہ بہترین رزلٹ دے رہے ہیں۔بورڈ ممبران نے چیئرمین پیف کی 50روپے پرائمری اور100روپے ایلیمنٹری لیول فی بچہ فیس بڑھانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے معاملہ فنانس کمیٹی میں بھیجنے کا فیصلہ کیا اور فیس بڑھانے کا ایجنڈا اگلی بورڈ میٹنگ میں پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں۔میٹنگ میں بورڈ ممبر/ایم این اے شاندانہ گلزار نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد مستحق بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم دینا ہے اور بورڈ کو مثبت ہو کر فیصلے کرنے ہیں تاکہ فنڈنگ کی بندش سے کہیں بچوں کے تعلیمی تسلسل میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اس موقع پر چئیرمین پیف اور تمام بورڈ ممبران نے ایم ڈی پیف اسد نعیم کی کاوشوں کو سراہا اوربہت کم وقت میں پارٹنرز کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔اجلاس میں ایم ڈی پیف اسد نعیم نے پیف کے ریجنل دفاتر ملتان اور راولپنڈی کے دائرہ کار کو بڑھانے اور بہتر کرنیکا ایجنڈہ پیش کیا جس کو بورڈ ممبران نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ایم ڈی پیف نے کہا کہ ریجنل دفاتر کے دائرہ کار کو بڑھانے سے جنوبی اور شمالی پنجاب کے پارٹنرزکو لاہور ہیڈآفس آنے کی سفری مشقت سے بچایا جا سکے گا اور ان کے مسائل متعلقہ ریجنل دفاتر سے ہی حل ہو جائیں گے۔
میٹنگ میں ڈائریکٹر فنانس زبیدالحسن نے بورڈ ممبران کے ساتھ سکولوں کی فنڈنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور بتایا کہ پیف کے اکاؤنٹ میں مو جود رقم پیف پارٹنرز کے بقایا جات دینے کے لیے ناکافی ہے جبکہ پیف پارٹنرز کو نومبر 2020سے فنڈز کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ انہوں نے ایم ڈی پیف اسد نعیم کی تایئد کرتے ہوئے کہا کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سے فنڈز ملتے ہی پارٹنر سکولوں کی ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔
میٹنگ میں ڈائریکٹر آئی ٹی محمد شعیب نے کہا کہ پیف نے 23لاکھ سے زائد بچوں کا نادرا کے ذریعے تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے انہو ں نے مزید بتایا کہ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ایک بائیومیٹرک اپلی کیشن کا پائیلٹ فیز متعارف کروانے جا رہا ہے جس کے ذریعے آفس سے ہی پارٹنر سکولوں میں ٹیچر ز اور بچوں کی حاضری دیکھی جا سکے گی اور اس سے مانیٹرنگ کے حوالے سے اخراجات میں بھی بہت کمی آئے گی۔
میٹنگ میں ڈائریکٹر(ایم اینڈای)ایاز عرفی نے مانیٹرنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور انہوں نے کہا کہ ایم ڈی پیف اسد نعیم کی ہدایت پر 148 ایم ای اوز، 50ماسٹر ٹرینرز اور 122پیف آفس کے سٹاف کی مدد سے بہت کم وقت میں پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ اور ویری فکیشن کا عمل مکمل کیا تاکہ فنڈنگ جاری کی جاسکے بورڈ میٹنگ میں بورڈ ممبراور ایم پی اے ثانیہ کامران، ڈاکٹر باسط خان، بیرسٹر سید رضا علی، بیرسٹر محمد احمد پنسوتہ نے بھی مختلف تجاویز پیش کیں جبکہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ایڈیشنل سیکریٹری فرید احمد،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے ممبر خالد سلطان نے بھی پیف کے تعلیمی منصوبوں کی بہتری کے لیے اپنی اپنی تجاویز دیں۔
آخرمیں چئیرمیں پیف سردار آفتاب اکبر خان نے کہا کہ میں بطور چیئرمیں پیف پبلک نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں اس لیے پارٹنرز اور تمام سٹیک ہولڈرز کے مسائل کو سننا اور انکے حل کے لیے عملی قدم اٹھانا میری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیف ملازمین 10سے15سال سے پیف کے لیے انتہائی محنت سے کام کر رہے ہیں اس لئے پیف ملازمین کے لیے بھی ویلفئیرکے پروگرامز متعارف کرانے چاہییں انہوں نے مزید پیف ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے بورڈ ممبران کے سامنے ایجنڈا رکھا اور کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ملازمین کے حوالے سے مثبت سوچتی ہے اور ملازمین کو مستقل کر نے سے ملازمین کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ بہتر انداز میں ادارے کی خدمت کر سکیں گے ایم ڈ ی پیف اسد نعیم نے بھی چئیرمین پیف کی تائید کی اور ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے بورڈ سے ورکنگ پیپر تیار کرنے کی اجازت طلب کی جس پر بورڈممبران نے رضا مندی کا اظہار کیا۔
میٹنگ کے اختتام پر چیئرمین پیف سردارآفتاب اکبر خان نے تمام بورڈ ممبران کا اجلاس کے لیے وقت نکالنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پارٹنرز کی فنڈنگ کے حوالے سے ان کی مثبت تجاویز پر خوشی کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ڈپٹی ایم ڈی (سپورٹ سروسز)سید ساجد ترمذی، ڈپٹی ایم ڈی (آپریشن)شاہد اسماعیل مرزا اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے.
Views: 1320

